پاکستان میں 2 ماہ سے بھی کم وقت میں نقد رقم ختم ہو سکتی ہے

پاکستان میں 2 ماہ سے بھی کم وقت میں نقد رقم ختم ہو سکتی ہے

بھارت کا پڑوسی دن بدن غیر مستحکم ہوتا جا رہا ہے دو پڑوسی قرضوں کے بحران سے نبرد آزما ہیں پہلے سری لنکا تھا اور اب پاکستان کی باری ہے حالات کم و بیش ایسے ہی ہیں چین پر انحصار کے باعث ان کے مالیات میں ایک بڑا سوراخ پاکستان پر اتر آیا ہے۔ قرضوں کے جال میں اس سیاسی عدم استحکام میں ایک سابق وزیر اعظم ملک کو یرغمال بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں صرف اس لیے کہ انہیں کل عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، ہم نے دیکھا کہ عمران خان کے حامیوں نے پرتشدد جھڑپیں کیں، انہوں نے عوامی املاک کو تباہ کیا، ان کا پولیس سے تصادم واضح سوال ہے۔ کیا پاکستان سری لنکا کی طرف جا رہا ہے اس کا جواب ہاں میں ہے اور یہ مزید خراب ہو سکتا ہے پاکستان آئی ایم ایف کے پاس گیا ہے وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے بیل آؤٹ چاہتے ہیں لیکن یہ مشکل ہو سکتا ہے سابق وزیر اعظم عمران خان نے دھمکی دی ہے کہ وہ قبل از وقت انتخابات چاہتے ہیں چھ دن میں ایک اعلان یلسی کہتا ہے کہ ان کے حامی ہنگامہ آرائی کریں گے لیکن کیا پاکستان اس وقت معیشت کے بیچ میں الیکشن کا متحمل ہو سکتا ہے؟ ic بحران اقتدار کی یہ جنگ پاکستان کی معاشی تباہی کا باعث بنے گی اور کرے گی۔ 


بھارت اور جنوبی ایشیا کے لیے اس کا کیا مطلب ہوگا پاکستان پہلے ہی ایک گڑبڑ ہے اور معاشی تباہی اگلے چار منٹ میں اسے اور بھی خطرناک گڑبڑ بنا دے گی ہم اس سب پر بات کریں گے اور پہلے آپ کو اس ہفتے دوحہ میں ہونے والی میٹنگ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ دوحہ میں ایک میٹنگ ہوئی پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف سے ملاقات کی کہ وہ قرضہ چاہتے ہیں کتنی رقم ہے ہم تین ارب ڈالرز کی بات کر رہے ہیں پاکستان کو تین ارب ڈالر کی ضرورت کیوں ہے کیونکہ سری لنکا کی طرح پاکستان کے پاس بھی مرکزی بینک کے فارن ریزرو ختم ہو رہے ہیں۔ اس وقت صرف 10 بلین ڈالر سے کچھ زیادہ ہے اور یہ دو ماہ کی برآمدات کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہے، بڑی پریشانی یہ ہے کہ پاکستان کو اس سال اپنے قرض دہندگان کو ادا کرنے کے لیے تقریباً تین ارب ڈالر کی ضرورت ہے اور پاکستان کے پاس بہت سارے قرض دہندگان ہیں جو وہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ملک قرضوں پر چل رہا ہے لیکن قرضوں کی واپسی ضروری ہے سود ادا کرنا ہوگا اور اس کے لیے بھی آپ کو پیسے چاہیے یہ ایک شیطانی چکر ہے کہ بوڑھوں کی خدمت کے لیے مزید قرضے لینا پاکستان کو 3 ارب ادا کرنے ہیں۔ سعودی عرب نے چین کو چار ارب ڈالر دیے کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 90 ارب ڈالر سے زیادہ ہے نو صفر نوے پوائنٹ ایک دو ارب ڈالر درست ہے اور اس میں سے تقریباً 25 ارب صرف چین کے مقروض ہیں پاکستان کے پاس کتنا ہے؟ اس کے خزانے


10 ارب وہ بمشکل پورا کر رہے ہیں پاکستان کسی کو ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس گیا ہے اس نے بیل آؤٹ پر بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن مذاکرات ناکام ہوئے پاکستان کے ڈان اخبار نے ایک عہدیدار سے بات کی جو کہ تھا۔ دوحہ مذاکرات میں شامل ہیں اور یہ وہی ہے جو انہوں نے کہا اور میں حوالہ دے رہا ہوں کہ ہماری ٹیم آج رات خالی ہاتھ واپس آرہی ہے آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہوا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ سے انکار کیوں کیا گیا کیونکہ اس قسم کے پیسے حاصل کرنے کے لیے آپ کو آئی ایم ایف کی رقم درکار ہے۔ کچھ معیارات پر پورا اترنے کے لیے آپ کے پاس ایسی پالیسیاں ہونی چاہئیں جو آپ کو معاشی بحالی کی طرف دھکیلیں پاکستان کے پاس وہ نہیں ہے جو آئی ایم ایف کو اپنی ایندھن اور بجلی کی سبسڈی کے بارے میں فکر ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ پائیدار پاکستان نہیں ہیں آج تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا جس کی امید تھی آئی ایم ایف کو اس طرح کی حرکتوں سے راضی کرنے کے لیے وہ مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہتا ہے ہم دیکھیں گے کہ یہ کہاں جاتا ہے کیونکہ سچ کہوں تو اس کے پاس اس وقت کوئی اور آپشن نہیں ہے اس ملک کو زندہ رہنے کے لیے بیل آؤٹ کی ضرورت ہے لیکن ایک آدمی ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی کشتی کو ہلاتے ہوئے وہ اقتدار میں واپس آنا چاہتے ہیں جو بھی قیمت ادا کرنا پڑے ان کے حامیوں نے کل شہروں کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ان تصویروں کو دیکھیں دارالحکومت اسلام آباد کے کم از کم سات شہروں سے آتشزدگی کی اطلاعات ہیں پارلیمنٹ کے باہر پرتشدد جھڑپیں ہوئیں امن بحال کرنے کے لیے فوج بلانی پڑی ایک حمایتی بھی مر گیا عمران خان اب اسے شہید شہید کہہ رہے ہیں


انہیں کل وہ نہیں ملا جو وہ چاہتے تھے اس لئے انہوں نے احتجاج ختم کر دیا لیکن وہ 6 دن میں الیکشن کرانے کی وارننگ دے کر چلے گئے ورنہ ان کے حامی سڑکوں پر آ جائیں گے پاکستان کی وزیر اعظم شیبہ شریف نے پارلیمنٹ میں جواب دیا ہے انہوں نے کہا عمران خان تو یہ ہے اسلام آباد میں ہماری کیا بے بس حکومت ہے اور ایک سابق وزیر اعظم جو کہتا ہے کہ وہ ان کے خلاف جہاد کر رہا ہے اس کا نقصان پاکستان کی معیشت اور اس کے عوام کو ہو گا، اس ملک میں سیاسی عدم استحکام کوئی نئی بات نہیں ہے پاکستان نے شاید اسی کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ بنیاد پرستی وقت کے ساتھ ساتھ بدتر ہوتی رہتی ہے لیکن اس مکس میں معاشی تباہی کا اضافہ ہوتا ہے اور پاکستان ایک ٹائم بم بن جاتا ہے ماہرین طویل عرصے سے سوچتے رہے ہیں کہ کیا ایک ناکام پاکستان ترقی پزیر پاکستان سے زیادہ خطرناک ہوگا، انہیں جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ معاشی تباہی کے سیکیورٹی اثرات بہت سنگین ہوں گے۔ بھارت اور خطے دونوں کے لیے سلامتی کے مضمرات ہیں اور اسی لیے کہا جاتا ہے اسی لیے ہم نے کہا کہ پاکستان کی کہانی اس سے بھی بدتر ہو گی۔ سری لنکا کی کہانی کیونکہ اس ملک کے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں پاکستان میں کم از کم 12 بڑے دہشت گرد گروپوں کا گھر ہے جسے امریکہ نے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر لیبل کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ غیر ملکی سرزمین پر دہشت گردانہ حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے پاکستان ایک ایٹمی ریاست ہے جو فعال ہے۔ دہشت گرد یہ ایک مہلک کاک ٹیل ہے اور معاشی تباہی مزید افراتفری پیدا کرے گی یہ عوامی بے چینی کو جنم دے سکتی ہے یہ پاکستانی ریاست کو غیر مستحکم کر سکتی ہے یہ پاکستان کو ایک ناکام ریاست میں تبدیل کر سکتی ہے جہاں ایٹمی ہتھیار انتہا پسند گروہوں کے ہاتھ لگ جائیں اور اس سب کا ہر ممکن امکان موجود ہے۔ ایسا ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کے سیاست دان اقتدار کے لیے لڑتے رہتے ہیں اب آپ کے ملک میں دستیاب ہے ایپ ابھی ڈاؤن لوڈ کریں اور چلتے پھرتے تمام خبریں حاصل کریں


پاکستان میں 2 ماہ سے بھی کم وقت میں نقد رقم ختم ہو سکتی ہے

پاکستان میں 2 ماہ سے بھی کم وقت میں نقد رقم ختم ہو سکتی ہے




Post a Comment

Previous Post Next Post